Ainah Darul Uloom Sabeelus Salam, Hyderabad

آئینۂ دار العلوم سبیل السلام

مولانا قاری غلام ربانی قاسمی صاحب
دار العلوم سبیل السلام حیدرآباد

آئینۂ دار العلوم سبیل السلام

مدينۃ العلم، حیدرآباد، آندھرا پردیش (الہند)
قیامِ جامعہ سے لے کر بانئ جامعہ مولانا محمد رضوان القاسمی کی وفات تک جامعہ کی اجمالی تاریخ

از
مولانا قاری غلام ربانی قاسمی
استادِ دار العلوم سبیل السلام، حیدرآباد
اور جامعہ کے تین بانیان میں سے ایک؛
امام و خطیب، مسجدِ عامرہ، عابڈس، حیدرآباد

١٤٢٦ھ ———————————————  ٢٠٠٥ ء
نامِ کتاب ————— آئینۂ دار العلوم سبیل السلام، حیدرآباد
مصنف —————————————— قاری غلام ربانی قاسمی
صفحات —————٢٦
کمپوزنگ ———— محمد احسان اللہ سبیلی (شعبۂ کمپیوٹر، دار العلوم سبیل السلام، حیدرآباد)

انگریزی ترجمہ:

History of Darul Uloom Sabeel us Salam Hyderabad by Musarhad @Scribd
History of Darul Uloom Sabeel us Salam Hyderabad by Musarhad @Blogspot
History of Darul Uloom Sabeel us Salam Hyderabad by Musarhad @Wordpress
History of Darul Uloom Sabeel us Salam Hyderabad by Musarhad @Archive

اِس کتاب کے ملنے کے پتے:

Ainah Darul Uloom Sabeelus Salam Hyderabad @Scribd
Ainah Darul Uloom Sabeelus Salam Hyderabad @Issuu
Ainah Darul Uloom Sabeelus Salam Hyderabad @Archive

فلپ بوک

Ainah Darul Uloom Sabeelus Salam Hyderabad @Google Drive

ناشر
دار العلوم سبیل السلام، مدینۃ العلم، حیدرآباد
Därul ‘Uloom Sabeelus Saläm
Madinatul Ilm, Hyderabad – 500 005
A.P., India
Ph: 0091-40-24440450, Fax: 2444 1835

فہرست
پیشِ لفظ…. 7
مدرسے کا دورِ اول… 8
مدرسے کی پہلی میٹنگ……. 8
عربی درجات و حفظ کے مقیم طلبہ کے اسمائے گرامی.. 8
اولین اساتذہ 9
مدرسے کی دوسری میٹنگ……. 10
خصوصی میٹنگ برائے وصولیِ  چَرمِ قربانی.. 10
کیلنڈر. 11
کمیٹی کی تشکیل……. 11
کمیٹی کی توسیع…. 12
مدرسے کے لیے زمین کا حصول.. 12
مدرسے کی منتقلی….. 13
مدرسہ اپنی سرزمین پر. 14
مدرسے کا دوسرا دور. 15
١. درس گاہ کی پہلی عمارت… 15
٢. نئی بلڈنگ برائے درس گاہ 15
٣. محسن لائبریری.. 16
جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کا انتقال.. 16
تعلیمی ترقی.. 16
جناب سید ضیاء الرحمان صاحب… 17
جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کی خدمات… 17
مدرسے کا تیسرا دَور. 18
١. مدرسے کی زمین کی حصار بندی.. 18
٢. مسجدِ عمر بن خطابؓ کی تعمیر…. 19
٣. تحفیظ القرآن.. 19
۴. انتظامی بلڈنگ… 19
٥. کمپیوٹر بلڈنگ… 20
٦. ٹیلرنگ سینٹر….. 20
٧. بور ویل، ٹنکی مع دو کمرے… 20
٨. السلام ہاسپٹل.. 20
٩. ڈائننگ ہال.. 20
١٠. دار الاختصاص… 21
علمی ترقی.. 21
مولانا محمد رضوان القاسمی…. 21
حیدرآباد میں آمد. 22
مسجدِ عامرہ میں مصروفیات… 22
مولانا کی زندگی کا سب سے بڑا کار نامہ.. 23
مولانا کی تصنیفات و تالیفات… 23
آخری ملاقات… 24
مولانا محمد رضوان القاسمی: بیک نظر… 25
دار العلوم سبیل السلام، حیدرآباد: ایک نظر میں…. 27
دار العلوم سبیل السلام اور اُس سے مُلحَقہ اداروں کی اہم مطبوعات… 29

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

پیشِ لفظ

الحاد و بے دینی اور مذہب بیزاری کی موجودہ فضا اخلاقی اور دینی قدروں کے لیے سخت خطرہ بن گئی ہے۔ پھر ہم جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں کا نظامِ حکومت سیکولر ہے، اور نظامِ تعلیم پر مذہب کی گرفت کمزور ہو جانے کی وجہ سے دین کی حفاظت اور آئندہ نسلوں کا دین سے رشتہ باقی رکھنا ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ ایسا مسئلہ کہ اُس پر مسلمانوں کا مذہبی تشخص، تہذیبی یکتائی، ملّی وجود اور اسلام سے ان کا تعلق اور رشتہ موقوف ہے۔

دینی مدارس و مکاتب کے قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا رشتہ اسلام سے نہ صرف باقی بلکہ مضبوط و مستحکم رہے، اور وہ اسلام اور تمام اسلامی تشخصات و امتیازات کے ساتھ ہندوستان میں رہیں۔ مسلمانوں کا دین کے ساتھ تعلق باقی رکھنے اور ہر زمانے میں دین کے خلاف اٹھنے والے فتنوں اور تحریکات کے سدِّ باب میں مدارس نے جو خدمات انجام دی ہیں، برِّ صغیرِ ہند و پاک کی گزشتہ صدی کی تاریخ کا ورق ورق اُس پر شاہدِ عدل ہے۔

ایسے ہی اداروں میں ایک اہم ادارہ دار العلوم سبیل السلام، حیدرآباد ہے جس کی تاسیس آج سے ٣٢ سال قبل بفضل اللہ مولانا محمد رضوان القاسمی کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ اُس وقت مولانا مسجدِ عامرہ کے امام و خطیب تھے اور راقم الحروف مسجدِ حیدر گوڑہ کا امام و خطیب۔  حافظ عبد الرشید فرقانی (فی الحال مبلغِ  دار العلوم سبیل السلام) بھی شریکِ کارواں تھے۔

رمضان المبارک کا مہینہ گُزر چکا تھا اور شوال ١٣٩٣ھ کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔

مدرسے کا دورِ اول

مدرسے کی پہلی میٹنگ

شوال ١٣٩٣ھ کے پہلے عشرے میں مولانا محمد رضوان القاسمی  نے اپنی قیام گاہ عامرہ بلڈنگ، مسجدِ عامرہ میں ایک میٹنگ طلب کی جس میں راقم الحروف اور حافظ عبد الرشید صاحب فرقانی شریک ہوئے۔ اِسی میٹنگ میں متفِقہ طور سے بے سر و سامانی کے عالم میں توکلاً علی اللہ مدرسے کے قیام کا فیصلہ ہوا، جس کے اصل محرِّک اور سَرخیل مولانا محمد رضوان القاسمی ہی تھے۔ اِس کے بعد مولانا محمد رضوان القاسمی نے قاری ظہیر الدین شرفی مرحوم، سابق خطیب، مسجدِ عالیہ، گن فاؤنڈری کے ذریعے مولانا عبد الخالق افغانی مرحوم، مسجدِ میاں مِشْک، پُرانا پُل سے رابطہ قائم کر کے مسجدِ میاں مِشک میں مدرسہ چلانے کے واسطے عارضی طور پر جگہ حاصل کی۔ اِس طرح بحمد اللہ ١٨ /شوال ١٣٩٣ھ سے مدرسے کا آغاز ہو گیا۔ اور پہلے ہی سال سے حفظ، ناظرہ اور ابتدائی عربی جماعت کی تعلیم شروع ہو گئی۔ مقیم و غیر مقیم دونوں طرح کے طلبہ مدرسے سے فیض پانے لگے۔

عربی درجات و حفظ کے مقیم طلبہ کے اسمائے گرامی

(١) مولانا شعیب اسلم ندوی ازہری، حال مقیم: جامعہ ازہر، مصر؛ فرزند: جناب مولوی بہاء الدین صاحب، سابق ملازم، ریلوے۔

(٢) مولانا محمد ہاشم غوری قاسمی، مقیمِ حال: ابو ظہبی۔

(٣) مولانا محمد حسان قاسمی، برادرِ خُرد مولانا محمد رضوان القاسمی۔

(٤) مولانا محمد طاہر قاسمی شاد نگری، ناظم، دار العلوم سبیل الہدٰی، شاد نگر، ضلع محبوب نگر۔

(٥) مولانا عبد الجبّار قاسمی، ناظم دار العلوم رشیدیہ، گدوال، ضلع محبوب نگر۔

(٦) مولانا لئیق احمد قاسمی، امام و خطیب، جامع مسجد، شکر نگر، بودھن، ضلع نظام آباد۔

(٧) مولوی حافظ محمد مصطفی            (٨) حافظ عبد الواحد

(٩) حافظ عبد الرشید                  (١٠) مولانا محمد عثمان، کداڑ؛ وغیرہم۔

اولین اساتذہ

اساتذۂ کرام میں سے مولانا محمد رضوان القاسمی اور راقم الحروف عربی درجات کو پڑھاتے تھے، اور شعبۂ حفظ و ناظرہ کو حافظ عبد الرشید صاحب پڑھاتے تھے۔ حافظِ موصوف ہی ناظمِ مطبخ اور دار الاقامہ کے ذمے دار و مربی بھی تھے۔ دو سال تک یہ تمام ذمے داریاں حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیتے رہے۔ دو سال کے بعد مدرسے کی مالی ضرورتوں کے پیشِ نظر مولانا محمد رضوان القاسمی نے حافظ عبد الرشید صاحب فرقانی کو داخلی ذمے داریوں سے سُبُک دوش کر کےخارجی ذمے داری سُپرد کی، یعنی اُن کو مبلغِ دار العلوم سبیل السلام کی حیثیت دے کر مالیہ کی فراہمی کی ذمے داری دی گئی، جس کو انہوں نے بخوشی قبول فرمایا۔ اور اِس میدان میں اُنہوں نے اپنی گوناگوں صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مالیہ کی فراہمی کے مسئلے کو بہت حد تک آسان کر دیا۔ اِس میدان میں اُن کی بے پناہ صلاحیتوں کا اعتراف خود اہلِ مدرسہ نے بھی بھر پور انداز میں کیا۔ اُن کی یہ خدمت مدرسہ کو الحمد للہ تا حال حاصل ہے، اور  إن شاء الله تا حیات حاصل رہے گی۔

مدرسے کے قیام کے وقت مدرسے کے پاس پہلے سے کوئی آمدنی موجود نہ تھی اور نہ مدرسے کی کوئی کمیٹی تھی۔ راقم الحروف اور مولانا محمد رضوان القاسمی بلا معاوضہ پڑھایا کرتے تھے۔ اِس طرح قیام کا مسئلہ مولانا عبد الخالق مرحوم کے ذریعے اور تن خاہ کا مسئلہ بلا معاوضہ پڑھانے کے ذریعے حل ہو گیا۔  اور مطبخ کا نظم بھی اہلِ خیر کے تعاون سے جاری ہو گیا۔

مدرسے کی دوسری میٹنگ

مدرسے کا آغاز ہو چُکا تھا، لیکن اب تک اُس کا کوئی نام تجویز نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ مولانا محمد رضوان القاسمی نے ذی الحجہ ١٣٩٣ھ کے ابتدائی دنوں میں نام رکھنے کے لیے ایک اور میٹنگ اپنی قیام گاہ عامرہ بلڈنگ، مسجدِ عامرہ میں طلب کی۔ اُس میٹنگ میں بھی راقم الحروف اور حافظ عبد الرشید صاحب شریک ہوئے۔ دِن کے ١٠/  بج رہے تھے۔ میٹنگ کا آغاز ہوا اور ظہر کے وقت تک اُس کا سلسلہ جاری رہا۔ اِس میٹنگ میں یہ بات پیشِ نظر رہی کہ مدرسے کا نام ایسا ہو جس میں معنویت کے ساتھ جِدّت بھی ہو۔ چنانچہ تین گھنٹوں کے تبادلۂ خیال کے بعد قرآنِ کریم کی اِس آیت قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ   15؀ۙ    يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ (المائدہ: ١٥-١٦) کی روشنی میں  آیتِ کریمہ کے الفاظ “سُبُلَ السَّلٰمِ” میں  “سُبُل” کو واحد سے بدل کر “سَبِیْلُ السَّلَام” تجویز ہوا، اور اُس کے پہلے “دَارُ الْعُلُوْم” بڑھا کر پورا نام “دَارُ الْعُلُوْم  سَبِیْلُ السَّلَام” رکھا گیا۔ آیتِ کریمہ میں مدرسے کے نام کے ساتھ بانئ مدرسہ کے نام کی بھی مناسبت پائی جاتی ہے۔

خصوصی میٹنگ برائے وصولیِ  چَرمِ قربانی

عید الاضحی کا زمانہ جب قریب آیا تو مسجدِ میاں مِشک میں چَرم کی وصولی اور مالی تعاون کے سلسلے میں ایک خصوصی میٹنگ رکھی گئی، جس میں مخصوص حضرات کو مدعو کیا گیا۔ اُن کے اسمائے گرامی درجِ ذیل ہیں:

(۱) قاری ظہیر الدین شرفی مرحوم، امام وخظیب، مسجدِ عالیہ، گن فاؤنڈری

(۲) مولانا عبد الخالق افغانی مرحوم، مسجدِ میاں مِشْک، پُرانا پُل

(٣) مولانا شاہ محمد بن عبد الرحمان الحموی قادری، امام، مسجدِ معظم پورہ، ملّے پلّی

(٤) مولانا عبد المنّان سبیلی صدیقی، ساکنِ گول کُنڈہ

(٥) حافظ محمد یعقوب مرحوم، مؤذن، مسجدِ عامرہ، عابڈس

(٦) جناب محمد علی عرف جانی بھائی مرحوم (٧) خاجہ نصیر الدین انجینیر مرحوم

(٨) امتیاز علی حسینی مرحوم             (٩) حامد علی حسن صدیقی مرحوم

(١٠) عبد الرحیم صدیقی صاحب          (١١) عبد الغفار صاحب

(١٢) مسعود اسماعیل مرحوم

اِس موقع پر اِن حضرات نے مدرسے کا بھر پور تعاون کیا۔

کیلنڈر

مولانا محمد رضوان القاسمی نے مدرسہ کے قیام کے پہلے ہی سال ہجری سن کی اہمیت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے مدرسے کی طرف سے ماہِ محرم ١٣٩٤ھ میں ایک کیلنڈر مرتَّب کر کے طبع کروایا جو کافی مقبول ہوا، اور مدرسے کے تعارف کا بہت بڑا ذریعہ بھی ثابت ہوا۔ الحمد للہ کیلنڈر کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔

کمیٹی کی تشکیل

عید الاضحی ١٣٩٣ھ کے بعد مدرسے کو مستحکم کرنے اور ترقی دینے کے لیے ایک کمیٹی کی ضرورت محسوس کی گئی اور اِس ضرورت کی تکمیل کی غرض سے مولانا محمد رضوان القاسمی نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے ارکان درجِِ ذیل ہیں:

(١) محمد علی عرف جانی بھائی مرحوم، صدر         (٢) خاجہ نصیر الدین انجینیر مرحوم، معتمد

(٣) عبد الرحیم صدیقی صاحب، خازن           (٤) حامد علی حسن مرحوم، رکن

(٥) امتیاز علی حسینی مرحوم، رکن

مولانا محمد رضوان القاسمی مدرسے کے ناظم مقرر ہوئے اور تا حیات ناظم رہے۔

کمیٹی کی توسیع

بعض نامساعد حالات کی وجہ سے مدرسے کو دو ماہ کے لیے لال ٹیکری منتقل ہونا پڑا، اور پھر وہاں سے مہدی پٹنم خاجہ نصیر الدین مرحوم کے پلاٹ میں عارضی نظم کر کے منتقل ہو گیا، لیکن جب ایک آندھی میں مدرسے کی گھاس کی بنی ہوئی چھت اُڑ گئی تو مدرسہ عارضی طور پر قاری عبد العلیم صاحب کے مکان ہِل کالونی، مہدی پٹنم میں منتقل ہوا۔ تقریبًا چار ماہ مدرسہ قاری صاحب کے مکان میں رہا، پھر عمارت کی اصلاح و درستگی کے بعد اپنی جگہ مہدی پٹنم واپس آ گیا۔

اِس طرح ایک سال کی تکمیل کے بعد جب دوسرے سال کا آغاز ہوا تو رمضان ١٣٩٤ھ کے بعد کمیٹی میں توسیع کرتے ہوئے جناب سید ضیاء الرحمان صاحب، پارٹنر، بیریز ہوٹل، عابڈس اور جناب قاری عبد العلیم صاحب مرحوم، مہدی پٹنم کو رکن کی حیثیت سے کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ مدرسے نے اِس طرح ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے اپنی عمر کے آٹھ نو سال اِسی جگہ پورے کیے۔ مدرسے کے تعلیمی استحکام کی وجہ سے مدرسے کی شہرت کافی ہو چکی تھی، اِس لیے طلبہ کا رجوع کثیر تعداد میں ہونے لگا جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے وہاں جگہ کی تنگی محسوس کی جانے لگی۔

مدرسے کے لیے زمین کا حصول

آٹھ سال گزرنے کے بعد بھی مدرسے کے پاس نہ اپنی ذاتی زمین تھی اور نہ ذاتی مکان، مگر مدرسے کی ذاتی زمین کے حصول کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ شہر کے اطراف و اکناف میں زمین دیکھی گئی لیکن کہیں پسند نہیں آئی۔ بالآخر صلالہ-بارکس کے قریب کی زمین پسند کی گئی، اور مدرسہ کمیٹی کی کوششوں سے مدرسے کی یہ موجودہ زمین مدرسے کے لیے حاصل کی گئی۔

مدرسے کے لیے حاصل کردہ زمین کوئی معمولی زمین نہ تھی۔ یہ بہتر (٧٢)ایکڑ سے زیادہ تھی، اور مدرسے کا مالی موقف ایسا نہ تھا کہ مدرسہ اتنی بڑی زمین کا معاوضہ یا ایڈوانس ہی ادا کر سکے۔ مگر اِس موقع پر کمیٹی کے ارکان، خصوصًا جناب سید ضیاء الرحمان صاحب نے اپنی ذاتی رقم سے بطور قرض ایڈوانس ادا کر کے اتنی بڑی زمین کے حصول کو جو بظاہر ناممکن نظر آ رہا تھا، ممکن بنا دیا۔ اِس کے بعد زمین کے دو حصے کیے گئے۔ ایک بڑا حصہ مدرسے کے لیے مختص کر دیا گیا، اور دوسرے حصے کو پلاٹ بنا کر فروخت کر دیا گیا۔ اُس سے جو رقم حاصل ہوئی وہ کمیٹی کے اُن لوگوں کو اور خود جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کو بھی، جنہوں نے زمین کے مالک ریڈی کو بطورِ پیشگی کچھ رقم ادا کی تھی، اُن سب کو ادا کر دیا گیا۔ زمین کے مالک ریڈی کو رقم یک مُشت ادا نہیں کی گئی تھی، بلکہ جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کی وفات کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور اِس کی تکمیل مولانا محمد رضوان القاسمی کے ہاتھوں عمل میں آئی۔

مدرسے کی منتقلی

اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے اور مدرسہ کمیٹی کی جہدِ مسلسل اور اخلاصِ نیت، اور مولانا محمد رضوان القاسمی کی خاموش قیادت کی برکتوں سے تقریبًا دس سال کے بعد وہ گھڑی آ ہی گئی جب ٢٧/ذی الحجہ ١٤٠٢ھ مطابق ١٥/ اکتوبر ١٩٨٢ء بروز جمعہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ عرف علی میاں کے دستِ مبارک سے مدرسے کی ذاتی زمین پر مدرسے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، اور اِس کے ساتھ ہی مدرسہ مہدی پٹنم سے اپنی ذاتی اور وسیع و عریض زمین پر منتقل ہو گیا۔  وہ کیا ہی مسعود و مبارک دن تھا جب مدرسے کا ایک دیرینہ خاب پورا ہوا! اِس موقع پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے، وہ کم ہی ہے۔ اے اللہ! تیرا بے انتہا شکر و احسان ہے!

مدرسہ اپنی سرزمین پر

مدرسہ جس وقت مہدی پٹنم سے منتقل ہو کر صلالہ-بارکس کی اپنی ذاتی زمین میں آیا تو اُس وقت مدرسے کی زمین میں ایک باولی اور ایک بہت بڑی ٹنکی تھی۔ باولی سے متصل چھ کمروں پر مشتمل ایک دو منزلہ مکان تھا۔ نیز پہاڑ اور وسیع میدان  تھا، اِن کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ کمیٹی کی کوششوں سے مسجدِ ارقم کی تعمیر کی گئی، اور دو بڑے ہالوں پر مشتمل ٹین پوش چھت کی ایک بڑی عمارت بنوائی گئی جو ایک عرصے تک درس گاہ اور طلبہ کی قیام گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اَب ایک حصہ ڈائننگ ہال کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اور دوسرا حصہ چھوٹے بچوں کے قیام و طعام کے واسطے۔ ایک باورچی خانہ باولی کے متصل بنایا گیا جو آج بھی کار آمد ہے۔ مسجدِ ارقم سے جانبِ مغرب تھوڑے فاصلے پر غسل خانہ، پیشاب خانہ اور بیت الخلا پر مشتمل ایک چھوٹی سی عمارت تعمیر کی گئی جو ابھی تک زیرِ استعمال ہے۔

علاوہ ازیں مسجدِ ارقم سے جانبِ جُنوب تھوڑے فاصلے پر چند فیملی کوارٹر بنائے گئے جس میں آج بھی کچھ اساتذۂ کرام فیملی کے ساتھ مقیم ہیں۔ یہ تمام کام تین سال کی مختصر مدت میں اور مدرسہ کمیٹی کی سرپرستی میں انجام دیے گئے۔ اِس طرح ١٩٧٢ء تا ١٩٨٥ء کی تیرہ سالہ مدت کو مدرسہ کا پہلا دور کہا جا سکتا ہے، کیوں کہ  یہاں تک مدرسے کا سفر اور تعمیر و ترقی کمیٹی کی راست نگرانی میں ہوئی۔ اراکینِ کمیٹی قابلِ تعریف ہیں جن کی کوششوں کی وجہ سے مدرسہ اِس منزل تک پہنچا۔

مدرسے کا دوسرا دور

١٩٨٤ء میں جناب محمد علی عرف جانی بھائی مرحوم کے استعفا کے بعد جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کو مدرسہ کمیٹی کا صدر بنایا گیا، اور ١٩٨٥ء کے اواخر میں اراکینِ کمیٹی، اپنے تمام اختیارات جناب سید ضیاء الرحمان صاحب، صدرِ مدرسہ اور مولانا محمد رضوان القاسمی، ناظمِ مدرسہ کو مشترَکہ طور پر سُپُرد کر کے عملًا مدرسے کی تمام ذمے داریوں سے دست بردار ہو گئے۔

اب مدرسے کے دوسرے دور کا آغاز ١٩٨٥ء کے اواخر سے ہوتا ہے یعنی یہاں سے مدرسے کی جو کچھ تعمیر و ترقی ہوئی ہے، وہ اِنہی دونوں حضرات کی مشترَکہ جِدّ و جَہد کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

١. درس گاہ کی پہلی عمارت

١٩٨٥ء کے بعد سب سے پہلی عمارت جو بنوائی گئی وہ باولی سے متصل مغربی جانب آٹھ کمروں پر مشتمل درس گاہ تھی جو آج بھی بطورِ درس گاہ مستعمَل ہے۔

٢. نئی بلڈنگ برائے درس گاہ

مدرسے کی زمین کے وسْط میں مشرقی جانب چھوٹے بڑے تقریبًا ٣٠/ کمروں پر مشتمل دو منزلہ آر.سی.سی. عمارت برائے درس گاہ ہے، جس میں عربی اول سے لے کر تخصصات تک کی تعلیم ہوتی ہے، اور مستقل دار الاقامہ نہ ہونے کی وجہ سے عربی جماعتوں کے طلبہ اِسی عمارت میں مقیم بھی ہیں، یعنی درس گاہ اور دار الاقامہ دونوں حیثیتوں سے یہ عمارت استعمال کی جاتی ہے۔ یہ عمارت مدرسے کی چند عظیم الشان عمارتوں میں سے ایک ہے جو اِسی دور کی یاد گار ہے۔

٣. محسن لائبریری

مدرسے کی تیسری عظیم الشان عمارت محسن لائبریری ہے، جو فی الوقت دو منزلوں پر مشتمل ہے، مگر اِس میں چار منزلوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ یہ عمارت عربی درس گاہ کی عمارت کے سامنے مغربی جانب ہے اور قابلِ دید ہے۔ اِس کا تعلق بھی اِسی دور سے ہے۔

جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کا انتقال

شنبہ، ٢٢/ ربیع الآخر ١٤١٣ھ مطابق٢٠/ اکتوبر ١٩٩٢ء کو فجر کے وقت دل کا دورہ پڑنے سے جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ        ؁  اللہ تعالٰی انہیں غریقِ رحمت فرمائے۔ بہت مُخلص اور ایمان دار شخص تھے۔١٩٨٥ء کے اواخر سے ٢٠/ اکتوبر ١٩٩٢ ء یعنی سات سالہ دور جو مدرسے کا دوسرا دَور ہے اور صدرِ مدرسہ اور ناظمِ مدرسہ کا مشترَکہ دور ہے، اُس میں ایک چھوٹی درس گاہ، ایک بڑی درس گاہ اور ایک عظیم الشان لائبریری تعمیر کی گئی۔ یہ اِس دور کی تعمیری ترقی ہوئی۔

تعلیمی ترقی

اِس دَور کی تعلیمی ترقی اِس طرح رہی: ١٩٨٥ء تک ششم عربی تک ہی تعلیم ہوتی تھی، مگر اِس دوسرے دَور میں ہفتم عربی کا آغاز ہوا۔ پھر دورۂ حدیث کا آغاز ہوا۔ اِس کے بعد تخصُّصات کے بھی شعبے قائم ہوئے۔ اِس طرح تعمیری اور تعلیمی دونوں طرح کی ترقی اِس دَور میں ہوئی۔ اِسی کے ساتھ یہ دوسرا دَور ختم ہو جاتا ہے۔

جناب سید ضیاء الرحمان صاحب

جناب کی پیدائش یکم اکتوبر ١٩٢٩ء[1] کو ہوئی۔ اصلًا جگتیال، ضلع کریم نگر کے رہنے والے تھے۔ نقلِ مکانی کر کے حیدر آباد آ گئے تھے۔ محلّہ حیدر گوڑہ میں مقیم تھے اور عبد الغفار صاحب کے ساتھ پارٹنرشِپ میں عابڈس پر بیریز ہوٹل چلاتے تھے۔  جس زمانے میں راقم الحروف مسجدِ حیدر گوڑہ کا امام و خطیب تھا یعنی ١٩٧٢ء میں، اُس زمانے میں جناب سید ضیاء الرحمان صاحب مسجدِ حیدر گوڑہ کے معتمد یا صدر تھے۔ اِس کے بعد مسجدِ عامرہ ،عابڈس کے معتمد بنائے گئے۔ وفات سے چند ماہ قبل تک مسجدِ عامرہ کے معتمد رہے۔

جناب سید ضیاء الرحمان صاحب  تبلیغی جماعت کے سرگرم کارکُن بھی تھے۔ سچے پکے مسلمان، نہایت دین دار، مخلِص اور ولی صفت انسان تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اُن کی مغفرت فرمائے، اور اُن کی خدمات کو اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین ثم آمین!

جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کی خدمات

١٩٧٣ سے ١٩٨٣ء تک دس سال بحیثیتِ رُکنِ کمیٹی، مدرسے کو اُن کی خدمات حاصل رہی ہیں، اور ١٩٨٤ سے ١٩٩٢ء تک نو سال بحیثیتِ صدر مدرسے کو اُن کی خدمات حاصل رہیں۔ اِس طرح جملہ ١٩/ سال اُنہوں نے مدرسے کی خدمت کی۔

مدرسے کا تیسرا دَور

جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کے انتقال کے بعد یعنی ١٩٩٢ء سے مدرسے کا تیسرا دَور شروع ہوتا ہے۔ اِس دور میں مدرسے کی تمام تر ذمے داریاں عملًا مولانا محمد رضوان القاسمی کے کاندھوں پر آ پڑتی ہے۔ مولانا محمد رضوان القاسمی بہت ہی با ہمت اور با حوصلہ انسان تھے۔ اُنہوں نے مدرسے کی تعمیر و ترقی کا سلسلہ جاری ہی نہیں رکھا بلکہ تیز تر کر دیا۔ اِس تیسرے دَور میں مدرسے کی جو تعمیری ترقی ہوئی ، اُس کی تفصیل درجِ ذیل ہے۔

١. مدرسے کی زمین کی حصار بندی

مولانا محمد رضوان القاسمی نے مدرسے کے حالات پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ حصار بندی نہ ہونے کی وجہ سے مدرسے کی ٤٦/ ایکڑ زمین غیر محفوظ ہے، اور واقعہ بھی یہی تھا۔ قابضین کی نگاہیں مدرسے کی وسیع و عریض اور حصار بندی نہ ہونے کی وجہ سے غیر محفوظ زمین پر جمی ہوئی تھی۔ آئے دن فتنے پیدا کرتے رہتے تھے، اور مدرسے کی زمین کو ہڑپنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے، جس کو مولانا کی دور بین نگاہ نے بھانپ لیا۔ لہذا ١٩٩٢ء کے بعد اُنہوں نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ مدرسے کی حصار بندی کا تھا۔

٤٦/ ایکڑ زمین کی حصار بندی کوئی معمولی کام نہ تھا، مگر مولانا نے اِس کو کر ہی ڈالا۔ اِس طرح مدرسے کی ٤٦/ ایکڑ غیر محفوظ زمین حصار بندی کے ذریعے محفوظ ہو گئی۔ ١٩٩٢ء کے بعد مولانا کا یہ سب سے پہلا اور اہم کارنامہ ہے۔ اِس موقع پر عبد اللہ با سلیمان مرحوم، بارکس اور قادر پاشا، مشیر آباد دونوں ماموں بھانجے کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اِن دونوں حضرات نے حصار بندی کے سلسلے میں مولانا محمد رضوان القاسمی کا بھر پور ساتھ دیا۔ حصار بندی کے موقع پر اِن دونوں حضرات کی موجودگی سے حصار بندی کا کام آسان سے آسان تر ہو گیا۔

٢. مسجدِ عمر بن خطابؓ کی تعمیر

حصار بندی سے فارغ ہونے کے بعد مسجدِ عمر بن خطابؓ کی تعمیر کا آغاز ہوا جو اب تقریبًا مکمل حالت میں موجود ہے۔ یہ مدرسے کی عظیم الشان مسجد ہے۔ لائبریری کے پیچھے مغربی جانب واقع ہے۔ اِس مسجد میں بیک وقت تقریبًا ڈھائی ہزار مصلی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ یہ مولانا کا دوسرا اہم اور بڑا کارنامہ ہے۔ اِس مسجد کے نیچے شِمالی جانب ایک ہال ہے، جو سیمینار ہال کے نام سے موسوم ہے۔ چند سال قبل رابطہ ادبِ اسلامی کا اجلاس اِسی ہال میں ہوا تھا۔ اِس کے علاوہ صحن کے نیچے ایک سب سے بڑا ہال بھی ہے۔ اِس ہال کو مولانا محمد رضوان القاسمی نے اپنی زندگی ہی میں قاضی مجاہد الاسلام کے نام سے موسوم کرتے ہوئے “قاضی مجاہد ہال” رکھا تھا۔  سالِ گزشتہ جون ٢٠٠٤ء میں چودہواں فقہی سیمینار اِسی ہال میں منعقد ہوا تھا۔ یہ ہال ابھی تزیین سے خالی ہے اور جزوی کام ابھی باقی ہے۔ اِس مسجد کی تعمیر مولانا کا دوسرا اہم اور بڑا کارنامہ ہے۔

٣. تحفیظ القرآن

یہ عمارت مسجدِ عمر بن خطاب کے قریب ہی شِمال مغرب کی جانب واقع ہے۔ یہ عمارت بھی مدرسے کی عظیم الشان عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اِس عمارت میں حفظ کی تعلیم دی جاتی ہے اور حفظ کے تمام طلبہ اِسی عمارت میں مقیم ہیں۔ یہ عمارت سامنے اور شِمالی جانب سے دو منزلہ ہے۔ اِس کے مغربی جانب ایک بڑا ہال ہے۔

 ۴. انتظامی بلڈنگ

یہ عمارت بھی مسجدِ عمر بن خطاب کے قریب جُنوب مشرق جانب واقع ہے۔ یہ عمارت دو منزلہ ہے اور چند کمروں پر مشتمل ہے۔ تنظیم و ترقی کے تمام امور اِسی عمارت سے انجام دیے جاتے ہیں۔

٥. کمپیوٹر بلڈنگ

یہ عمارت تحفیظ القرآن کے سامنے تھوڑے فاصلے پر جانبِ مشرق واقع ہے۔ اِس عمارت میں کمپیوٹر کی تعلیم کا نظم ہے۔ یہ بھی بہترین عمارت ہے اور کمپیوٹر کے شایانِ شان ہے۔

٦. ٹیلرنگ سینٹر

یہ عمارت صدر دروازے کے قریب مغربی جانب واقع ہے۔ اِس عمارت میں خاہش مند طلبہ کو سلائی و کڑھائی کی تعلیم دی جاتی ہے۔

٧. بور ویل، ٹنکی مع دو کمرے

یہ عمارت باولی سے متصل شِمال مغرب جانب واقع ہے۔ سب سے نیچے بور ویل ہے جس کا پانی آج بھی پینے اور کھانا پکانے میں استعمال ہوتا ہے۔ اِس کے اوپر دو کمرے ہیں جِن میں سے ایک کمرہ بطورِ طبی کلینک ایک عرصے تک استعمال ہوتا رہا۔ اِس کے اوپر یعنی سب سے اوپر ایک بڑی ٹنکی ہے۔

٨. السلام ہاسپٹل

یہ عمارت صدر دروازے سے قریب مشرقی جانب واقع ہے۔ یہ دو منزلہ عمارت در اصل عوامی خدمت کے لیے ایک بڑا ہاسپٹل ہے، جو قریب التکمیل ہے۔ افتتاح ہونا ابھی باقی ہے۔

٩. ڈائننگ ہال

یہ عمارت باورچی خانے کے قریب مشرقی جانب واقع ہے۔ اِس عمارت میں اساتذہ اور تخصصات کے طلبہ کے کھانے کا نظم ہے۔

١٠. دار الاختصاص

یہ عمارت انتظامی بلڈنگ سے متصل مشرقی جانب واقع ہے۔ یہ عمارت تخصّصات کے طلبہ کے لیے بنائی گئی ہےجیسا کہ نام سے بھی ظاہر ہے۔ یہ عمارت ابھی نامکمل ہے مگر قریب التکمیل ہے۔

تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ. یہ مکمل دس عمارتیں وہ ہیں جن کا شمار مولانا محمد رضوان القاسمی کے خصوصی کار ناموں میں ہوتا ہے، کیوں کہ یہ تمام عمارتیں جناب سید ضیاء الرحمان صاحب کے انتقال کے بعد تعمیر کی گئی ہیں۔ اِس کے علاوہ ایک مہمان خانہ بھی زیرِ تعمیر ہے۔چھت پڑ چکی ہے، دیگر کام باقی ہیں۔

علمی ترقی

یوں تو دار العلوم سبیل السلام میں جتنے تعلیمی شعبے قائم ہیں وہ سب مولانا محمد رضوان القاسمی ہی کے ذہن و فکر  کے نتیجے میں قائم ہوئے ہیں، مگر اُن کے اِس مخصوص دَور میں بھی مدرسے نے تعلیمی اعتبار سے کافی ترقی کی۔ تخصصات کے مزید شعبے قائم ہوئے۔ تدریب الائمہ اور انگریزی تعلیم یافتہ طلبہ کے لیے خصوصی درجات قائم ہوئے۔ نشر و اشاعت کا شعبہ کافی متحرک ہوا اور کافی کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہوئیں۔

مولانا محمد رضوان القاسمی

١١/ جولائی ١٩٤٤ء کوبھاگ رتھ پور، رسول پور، ضلع دربھنگہ، صوبہ بہار میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جامعہ رحمانیہ مونگیر، مدرسہ ڈھاکہ، چمپارن اور مدرسہ حسینیہ، رانچی میں حاصل کی۔ متوسطات کی تعلیم کے بعد دار العلوم دیوبند آ گئے۔ ١٩٦٧ء میں دورۂ حدیث کی تکمیل کے بعد اختصاص فی القرآن میں داخلہ لیا، اور ١٩٦٩ء میں مقالہ پیش کرنے کے بعد اختصاص فی القرآن کی تکمیل کی۔

حیدرآباد میں آمد

اُنہی دنوں مسجدِ عامرہ، عابڈس، حیدرآباد میں امام و خطیب کی جگہ خالی ہوئی۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مہتممِ دار العلوم دیوبند جب حیدر آباد تشریف لائے تو مسجدِ عامرہ کی کمیٹی کے ارکان خصوصًا عبد الوہاب صاحب، متعمدِ مسجدِ عامرہ، عابڈس نے حضرت مہتمم صاحب سے امام و خطیب کے واسطے درخاست کی۔ حضرت مہتمم صاحب نے اُن کی درخاست قبول فرماتے ہوئے حضرت مولانا معراج الحق صاحب، نائب مہتمم، دار العلوم، دیوبند کی وساطت سے مولانا محمد رضوان القاسمی کو مسجدِ عامرہ کے واسطے منتخب فرما کر حیدرآباد کے لیے روانہ کر دیا۔ اِس طرح مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب  دار العلوم دیوبند سے حیدرآباد آ گئے۔ اُن کی آمد پر اراکینِ کمیٹی نے اُن کا شان دار استقبال کیا۔

دلِ مُضطَر سے پوچھ اے رونقِ بزم                     میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں

مسجدِ عامرہ میں مصروفیات

مولانا محمد رضوان القاسمی کا مسجدِ عامرہ میں چوتھی منزل پر قیام تھا۔ مسجد میں پانچوں وقت کی نماز پڑھاتے تھے۔ ظہر کی نماز کے بعد قرآن کا درس دیتے تھے جِس میں مصلیوں کی کثیر تعداد شریک ہوا کرتی تھی اور مولانا کے درس سے فیض یاب ہوتی تھی۔ عصر کے بعد مشکات شریف کا درس دیتے تھے۔ اِس طرح حدیث شریف سے بھی مصلیانِ مسجد فیض یاب ہوتے تھے۔ جمعہ کے دن اپنے مخصوص اندازِ خطابت کے ذریعے لوگوں کو مسحور کر دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے بصیرت افروز خطاب کو سُننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے، جس کی وجہ سے مسجدِعامرہ اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کیا کرتی تھی۔

مولانا کی زندگی کا سب سے بڑا کار نامہ

مولانا کے بہت سے کار ناموں میں سب سے بڑا کار نامہ دار العلوم سبیل السلام کا قیام ہے، جس کو اُنہوں نے حیدرآباد میں اپنی آمد کے تین سال بعد ١٩٧٢ء میں  انجام دیا۔ راقم الحروف اور الحاج حافظ قاری عبد الرشید صاحب فرقانی مولانا کے اولین معاون رہے۔ مولانا نے اِس ادارے کو نہ صرف قائم فرمایا بلکہ اپنی ہی زندگی میں بامِ عروج تک پہنچایا، جس کا جیتا جاگتا ثبوت دار العلوم سبیل السلام، اپنی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ ولله الحمد وله الشکر (اللہ ہی کے لیے ساری تعریفیں ہیں اور اُسی کے ہم شکر گزار ہیں۔)

مولانا کی تصنیفات و تالیفات

مولانا جہاں ایک طرف بے مثال خطیب، مقرر، واعظ، مدبر، مفکر اور منتظم تھے، وہیں لا جواب اہلِ قلم بھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کے کثیر الاشاعت اور ممتاز اخبار یعنی روزنامہ سیاست میں آپ کے مضامین تسلسل کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ اِس کے علاوہ “آپ کے سوال” کے عنوان سے لوگوں کے سوال کا جواب بھی دیتے رہے، جس سے عوام و خواص مستفیض ہوتے رہے اور مولانا کو اُن کی حسنِ تحریر پر داد دیتے رہے۔ علاوہ ازیں مولانا کی مزید کئی تصانیف ہیں جن میں سے چند کا نام درجِ ذیل ہے:

اے انسان! وقت کی قیمت پہچان، باتیں اُن کی یاد رہیں گی، چراغِ راہ، دینی مدارس اور عصرِ حاضر، زکات و صدقۂ فطر– احکام و مسائل، عید الاضحی – احکام و مسائل، سفرِ آخرت، اسرارِ حیات، متاعِ قلم، گنج ہائے گراں مایہ۔

آخری ملاقات

٩/ ستمبر ٢٠٠٤ء[2] بروزِ جمعرات بوقت دس بجے شب راقم الحروف مسجدِ عامرہ سے عشا کی نماز پڑھا کے مدرسہ آ رہا تھا۔ مدرسے کے گیٹ کے قریب پہنچا ہی تھا کہ گیٹ کھلا اور مولانا کی کار گیٹ سے باہر نکلی۔ کار گیٹ سے باہر نکل کر رُک گئی۔ راقم الحروف بھی رُک گیا۔ سلام و کلام ہوا، پھر مولانا نے فرمایا کہ کل سویرے میرا دہلی کا سفر متوقع ہے، اِس لیے کل مسجدِ عامرہ میں جمعہ کی نماز آپ پڑھا دیں۔ اِس کے بعد کار روانہ ہو گئی اور میں مدرسہ آ گیا۔

 صبح ہوئی تو راقم الحروف جمعہ کی نماز پڑھانے کے لیے مسجدِ عامرہ عابڈس آ گیا۔ یہاں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ مولانا کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اور دہلی کا سفر ملتوی ہو گیا ہے۔ مولانا کو دوا خانے میں شریک کرا دیا گیا ہے۔ ١١/ ستمبر ٢٠٠٤ء بروز شنبہ بوقت ١١/ بجے دن مولانا اچانک کوما میں چلے گئے اور حالت تشویش ناک ہو گئی۔ مولانا کو شوگر، بلڈ پریشر اور ہارٹ: یہ تینوں امراض پہلے ہی سے تھے، اب ایک اور مرض کا اضافہ ہو چکا تھا ،یعنی دماغی عارضہ۔ کوما ہی کی حالت میں مولانا کے دماغ کا آپریشن کیا گیا، مگر یہ آپریشن بھی زندگی کے لیے کار آمد ثابت نہ ہو سکا۔ وقت گزرتا گیا اور

؏ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا، نا امیدی بڑھتی جا رہی تھی۔ ١١/ اکتوبر ٢٠٠٤ء[3] بروزِ پیر ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر راقم الحروف حسبِ معمول مسجد کی لائبریری میں بیٹھا تھا۔ کچھ لوگ میرے پاس لائبریری میں آئے اور کہنے لگے کہ مولانا کے بارے میں آپ کو کوئی تازہ اطلاع ہے؟ میں نے لا علمی ظاہر کی اور اُسی وقت ہم تمام لوگ کیر ہاسپٹل پہنچ گئے جہاں مولانا شریکِ دوا خانہ تھے۔ اُس وقت دِن کے ڈھائی بج رہے تھے۔

وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مولانا دارِ فانی سے کوچ کر کے دار الخُلد روانہ ہو چکے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ        ؁   یہ خبر عزیز و اقارب اور متعلقین پر بجلی بن کر گِری اور تھوڑی ہی دیر میں تمام شہر میں پھیل گئی۔ تجہیز و تکفین کا انتظام کیا گیا اور اُسی شب دَس بجے مسجدِ عامرہ میں جنازے کی نماز پڑھی گئی۔ وقت کی کمی کے باوجود جنازے کی نماز میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ بہت سے لوگ جو مسجدِ عامرہ نہ آ سکے تھے، مدرسہ پہنچ گئے۔ اُن کی رعایت کرتے ہوئے مدرسے میں بھی جنازے کی نماز ادا کی گئی۔ پھر مدرسے ہی میں مولانا کی تدفین عمل میں آئی۔ اِس طرح مولانا ہمیشہ ہمیش کے لیے اُسی مدرسے میں سو گئے جسے اُنہوں نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا اور جو اُن کے لیے إن شاء الله صدقۂ جاریہ رہے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کو أعلٰی علیین میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

یہ وہ ستارہ تھا جو ١١/ جولائی ١٩٤٤ء[4] کو شمال میں طلوع ہوا، سفر کرتے ہوئے ٢٥/ سال کے بعد ١٩٦٩ء میں جَنوب میں داخل ہوا، اور ٣٥/ سال تک جَنوب میں چمکنے اور اپنی روشنی بکھیرنے کے بعد ١١/ اکتوبر ٢٠٠٤ء[5] کو یعنی کامل ساٹھ سال تین ماہ کی عمر میں سر زمینِ دکن میں ہمیشہ ہمیش کے لیے غروب ہو گیا۔

مولانا محمد رضوان القاسمی: بیک نظر

نام:          محمد رضوان القاسمی ولد الحاج حبیب الحسن مرحوم

پیدائش:      ١١/ جولائی ١٩٤٤ء بمقام: بھاگ رتھ پور، رسول پور، ضلع دربھنگہ، صوبہ بہار، الہند

تعلیم:        فاضل و متخصّص، دار العلوم دیوبند

خدمات:       امام و خطیب، مسجدِ عامرہ، عابڈس، حیدرآباد

              بانی و ناظم، دار العلوم سبیل السلام، حیدرآباد

رُکنِ تاسیسی و عاملہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ؛ نائب صدر، اسلامی فقہ اکیڈمی، انڈیا؛ رُکن، مجلسِ شورٰی، ندوۃ العلما، لکھنؤ؛ رُکن، اصحابِ حلّ و عقد، امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ، بہار؛ رُکنِ تاسیسی، المعہد العالی لتدریب القضاء والافتاء، پٹنہ؛ نائب صدر، تنظیمِ ابنائے قدیم، دار العلوم دیوبند؛ رُکنِ تاسیسی و عاملہ، آل انڈیا ملّی کانسل؛ رُکنِ تاسیسی، مجلسِ علمیہ، آندھرا پردیش؛ نائب صدر، دینی مدارس بورڈ، آندھرا پردیش؛ نائب صدر، یونائیٹیڈ مسلم فورم، آندھرا پردیش۔

اللہ تبارک وتعالٰی سے دعا ہے کہ مولانا کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے، اور اُن کے اِس لگائے ہوئے باغ کو ہمیشہ پھلتا پھولتا اور ہر قسم کے شرور و فتن سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

؏ ایں دعا از مَن و از جملہ جہاں آمین باد

(یہ دعا میری طرف سے ہے۔ تمام عالم کی طرف سے اِس پر آمین ہو۔)

دار العلوم سبیل السلام، حیدرآباد: ایک نظر میں

١٤٢٦ھ                     ٢٠٠٥ء

سنۂ قیام

شوال ١٣٩٣ھ مطابق ١٩٧٢ء

بانیان

مولانا محمد رضوان القاسمی، قاری غلام ربانی قاسمی، اور حافظ عبد الرشید فرقانی

زمینی رقبہ

٤٦ /ایکڑ

تعلیمی شعبے

تحفیظ القرآن، ناظرہ و پرائمری،  عربی اول تا دورۂ حدیث (فضیلت)، کلیۃ القرآن (تخصص فی التفسیر)، کلیۃ الحدیث (تخصص فی الحدیث)، کلیۃ الشریعۃ (تخصص فی الفقہ والافتا)، کلیۃ الدعوۃ (تخصص فی الدعوۃ)، کلیۃ اللغۃ العربیۃ وآدابہا (عربی زبان وادب میں تخصص)، تدریب الائمہ (حفاظ کو منصبِ امامت و خطابت کے لائق بنانے کے لیے تربیتی شعبہ)، جماعتِ خاص (عصری درس گاہوں سے فارغ شدہ طلبہ کے لیے مختصر مدتی عالم کورس)

دیگر شعبہ جات

(١) کمپیوٹر سیکشن (٢) ٹیلرنگ سنٹر (٣) لائبریری (٤) دار المطالعہ (٥) دار الافتا (٦) دار الاشاعت (٧)دفترِ مُحاسَبی وتعمیرات (٨)شفا خانہ (٩) الفلاح (انجمنِ طلبہ) (١٠) صفا (اردو سہ ماہی) (۱۱) صوت السلام (عربی سہ ماہی) (١٢) معمار (طلبہ کا سال نامہ)

کل طلبہ

تقریبًا ٨٠٠

دار الاقامہ میں معیم طلبہ

تقریبًا ٧٠٠

اساتذہ و عملہ

٧٠

سالانہ بجٹ

تقریبًا ٩٠ لاکھ

ذرائعِ آمدنی

جامعہ کے پاس کوئی مستقل ذریعۂ آمدنی نہیں ہے۔ فضلِ خدا وندی کے بعد اصحابِ خیر حضرات کی طرف سے عطا کردہ زکات، صدقات اور امدادی تعاون ہی کے ذریعے  اِس کے اخراجات کی تکمیل ہوتی ہے۔

جامعہ کو در پیش فوری ضرورتیں

(١) دار الاقامہ: ہاسٹل کے لیے مستقل عمارت نہ ہونے کی وجہ سے اِس وقت طلبہ درس گاہوں کے کمروں میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے اُنہیں کافی دُشواریاں پیش آتی ہیں۔ اِس لیے اُن کے لیے علاحدہ مستقل دار الاقامہ کی فوری ضرورت ہے۔

(٢) مہمان خانہ: جامعہ میں ملک و بیرونِ ملک سے وقتًا فوقتًا مختلف علمی شخصیتیں آتی رہتی ہیں۔ جامعہ میں مہمان خانہ نہ ہونے کی وجہ سے اُن کی ضیافت و راحت رسانی میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مہمان خانے کے ایک حصے پر صرف چھت  ڈالی گئی ہے، دیگر کام باقی ہے۔

(٣) فیملی کوارٹر: جامعہ میں اساتذہ و عملہ کے لیے فیملی کوارٹروں کی سخت ترین ضرورت ہے تاکہ وہ مکمل یک سوئی و اطمینانِ قلبی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

ناظم

مولانا محمد حسان القاسمی

دار العلوم سبیل السلام
مدینۃ العلم، حیدرآباد – ٥٠٠٠٠٥
اے. پی.، ہند
فون: ٢٤٤٤٠٤٥٠ – ٤٠ – ٠٠٩١
فیکس: ٢٤٤٤١٨٣٥ – ٤٠ – ٠٠٩١

دار العلوم سبیل السلام اور اُس سے مُلحَقہ اداروں کی اہم مطبوعات

۞صلاۃ  و سلام ۞ ظہورِ قدسی ﷺ ۞ منتخب دعائیں ۞ اے انسان! وقت كي قيمت پہچان ۞ چراغِ راہ ۞ باتیں اُن کی یاد رہیں گی ۞ دینی مدارس اور عصرِ حاضر ۞ زکات و صدقۂ فطر – احکام و مسائل ۞ عید الاضحٰی – احکام و مسائل ۞ جرائم – مرض اور علاج ۞ گلدستۂ سنت ۞ گنج ہائے گراں مایہ ۞ سفرِ آخرت – احکام و مسائل ۞ عصرِ حاضر کے فقہی مسائل ۞ پیغمبرِ اَخلاق و انسانیت ۞ اَسرارِ حیات ۞ متاعِ قلم ۞ حلال و حرام ۞ نبیِّ رحمت کا پیامِ رحمت ۞ اسلام کا نظامِ مساجد ۞ بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس ۞ دروسِ حرم ۞ وہ جو شاعری کا سبب ہوا ۞ دو ہفتے امریکہ میں ۞ قرآنی امّت ۞ پیامِ اخوت ۞ قرآنِ کریم – تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا معجزہ ۞ تاریخِ تدوینِ سیرت ۞ جنت اور اہلِ جنت – کتاب وسنت کی روشنی میں ۞ آسان اصولِ فقہ ۞ جب ستارے ٹوٹ جائیں گے ۞ اسلام کا نظامِ عشر و زکات ۞ نفقۂ مُطلَّقہ کا مسئلہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ۞ اِصلاحِ معاشرہ ۞ انجمنِ طلبہ “الفلاح” کا سالنامہ “معمار” (اردو) ۞ النهضة الإسلامية (عربی) ۞ امام ابو حنیفہ کی تدوینِ قانونِ اسلامی ۞ اصطلاحاتِ اصولِ حدیث ۞ خُلُقِ عظیم ۞ اصلاحی اشعار۞


[1] ١/ اکتوبر ١٩٢٩ء = منگل، ٢٧/ ربیع الثانی ١٣٤٨ھ

[2] ٩/ ستمبر ٢٠٠٤ء  بروزِ جمعرات = ٢٤/ رجب ١٤٢٥ھ

[3] ۱۱/ اکتوبر ٢٠٠٤ء = ٢٧/ شعبان ١٤٢٥ھ

[4] ١١/ جولائی ١٩٤٤ء = منگل، ٢٠/ رجب ١٣٦٣ھ

[5] ١١/ اکتوبر ٢٠٠٤ء = پیر، ٢٧/ شعبان ١٤٢٥ھ

Advertisements

One thought on “Ainah Darul Uloom Sabeelus Salam, Hyderabad

  1. Pingback: All Posts | sabeelussalam

Your thoughts? Your first comment will appear after my approval. Subsequent comments will appear immediately.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s